100+ Sad Bios For Instagram In Urdu 2022


Attractive Instagram username for Girls » Nice Dpz


عورت چاہتی ہے مرد کا مستقبل اچھا ہو اور مرد چاہتا ہے عورت کا ماضی اچھاہو


زندگی کے سارے مہنگے سبق

سستے لوگ ہی سکھاتے ہیں


ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﮮ

ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻃﻦ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ


آغاز پر اعتبار نہ کریں، سچے الفاظ آخری لمحے میں کہے جاتے ہیں۔


 معیار ہونا چاہیے انسان میں

غرور تو دو ٹکے کے لوگ بھی کرتے ہیں


 کشش پیدا کر کردار میں

زمانہ تیری آہٹ کے پیچھے آئے گا


جب ننگے پاؤں ہوں اور اللّٰہ آپ کو جوتوں

سے نواز دے تو اپنی چال تبدیل نہ کریں


تنہا ہو جانا، نظرانداز ہونے سے بہتر ہے


بیزار پھر رہے ہیں سب اپنی حیات سے، لیکن سبھی کو چاہیے عُمرِ دراز بھی! ۔


مضبوط لڑکوں کے دل بھی ٹوٹتے ہیں

لیکن انھیں محبت نہیں حالات توڑ دیتے ہیں


فائدہ” نہایت گری ہوئی چیز ہے

لیکن لوگ اٹھاتے بہت ہیں


توڑ کے دل لوگوں کا

مرضی رب کی بتا دیتے ہیں


غلط فہمی تھی کہ سب اپنے ہیں

مڑ کے دیکھا تو ایک سایہ ہمسفرنکلا


تُم اپنی غَلطیاں مِٹا نہیں سکتے

اگر تُم اُسی راستے پر چلتے رہو


فرق نہیں پڑتا کے یہ دنیا کیا کہتی ہے

میں بہت اچھا ہوں یسا میری ماں کہتی


وقت تہجد کا آنکھوں میں آنسوں

رب سے مانگا بھی تو کیا ایک نامحرم کی محبت


کیا ضروری ہے کہ ہر بات کی تصدیق بھی ہو
وہ جو نزدیک نظر آتا ہے نزدیک بھی ہو
تم اگر صاحب رائے ہو تو لازم تو نہیں

تم جیسے ٹھیک سمجھتے ہو وہ ٹھیک بھی ہو


کسی کے درد کی دوا بنو۔۔۔

زخم تو ہر انسان دیتا ہے


عمر کے تقاضوں میں ایک تماشا جوانی ہے


مجھے ایک بات سمجھ ائی ہے کہ انسان تین ہی اچھے سمجھے جاتے ہیں.. ایک وہ جو مر گیا ہو

دوسرا جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا. تیسرا جسے ہم نہیں جانتے


وہ لوگ جو خود اندر سے
مر جاتے ہیں

وہ پھر دوسروں کو جینا سیکھاتے ہیں


عشق بھی کوئی کرنے کی چیز ہے

ہمت کیجئیے اور نکاح کیجئیے


سر اور کردار ہمیشہ اونچا رکھیں

اچھے بُرے دن آتے جاتے رہتے ہیں


ہمیشہ وہ لوگ آپ کے مقابلے میں آئینگے

جن کی پہچان آپ کی وجہ سے بن گئی ہو.


منافقوں کی بستی کے اپنے اپنے ڈیرے ہیں

میرے منہ پر میرے ہیں تیرے منہ پر تیرے ہیں


سورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیں

میں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں


نہیں آتی ہمیں مودبانہ گفتگو

سیدھی سی بات ہے بدتمیز ہیں ہم


گفتگو جو ہم سے کریں تو ذرا احتیاط سے آپ
ہم باتوں سے دل میں اتر جانے کا ہنر جانتے ہیں

سرپھری


وعدہ تھا مکر گیا
نشہ تھا اتر گیا
دل تھا بہر گیا

انسان تھا بدل گیا


تاعمر ایک بات یاد رکھیے

تعلق اورعبادت میں نیت صاف رکھیے


شکوے تو بہت تھے لیکن

کم ظرفوں کے منہ کیا لگنا


اں ٹھیک ہے میں اپنی انا کی مریض ہوں

آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی


کالےجوڑے پرہی موقوف نہیں جلوے

ہم سفید بھی پہنے توغضب لگتے ہیں


مانا کے ہم ادب سے بات نہیں کرتے

پر یہ مانو کے مطلب سے بات نہیں کرتے


جی چاہتا ہے آگ لگا کر دل کو
خود کہیں دور کھڑا ہو کر تماشا دیکھوں

جون ایلیاء


یں یہ سمجھا کہ فقط بچھڑے ہیں

ہاۓ قسمت..! بُھلا دیا اُس نے


محبت کو بس راز ہی رہنے دو

اس کی وضاحت موت ہوتی ہے


بہتر یہی تھا مرجاتے یا مار دیتے


          یہ بچھڑ کر کس اذّیت میں ڈال دیا تُو نے


اور پھر جن پہ ہم آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتے ہیں وہی لوگ ہماری معصومیت سے کھیل کر ہماری آنکھیں کھول دیتے ہیں۔


ذرا سوچ کے دل توڑا کرو صاحب ہرگناہ کی بخشش نہیں ہوتی